kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

یار کی دہلیز تک آیا تھا میں

یار کی دہلیز تک آیا تھا میں

پر نہیں معلوم کیوں لوٹا تھا میں

دوقدم آگے نہ جانے کی سزا

دے رہا تھا خود کو یہ سوچھا تھا میں

ناز کے لائق تھا وہ اپنا صنم

یار کی دہلیز پہ رکا تھا میں

سوچتے رہنے کی عادت چھوڑ دی

جب سے اس راز پہ سمجھا تھا میں

پیار کی سبھی راہیں فریب تھیں

حیف! کتنا درد سے تڑپا تھا میں

ساحلوں پہ دھوپ میں کچھ ڈھونڈنے

مثلِ پاگل، آوارہ پھرتا تھا میں

کوئی سیپ موتی سمجھ کے ڈھونڈلی

خود کو جو اک جوہری سمجھا تھا میں

آہ! نادانی تھی میری آہ! دل

یہ جوانی میں کیوں نہ سمجھا تھا میں

پیار کا یہ کھیل ہے جادوگری

اس کے رازوں سے کبھی آگاہ تھا میں

آج اک خلش سی دل میں ہے مگر

پیار کی قسموں میں ہی جھوٹا تھا میں

پیار تو عریاں ہے اپنے راز سے

کسقدر غفلت ہے ناآشنا تھا میں

روز اپنی محبتوں کی قبر پہ

شمع، جلاتے ہوئے کھڑا تھا میں

آج اس بستی سے ہوں میں جا رہا

جس میں روز آتا تھا میں، جاتا تھا میں

بخش دی اپنے ہی دردوں کو سخن

گرچے وہ سمجھا تھا کہ جھوٹا ہوں میں

روز مجھ سے دل میرا کہتا ہے یہ

کس قدر ٹوٹا تھا اور بکھرا تھا میں

میں کسے ہمراز کرتا آہ! دل

اپنے ہاتھوں درد سے الجھا تھا میں

Leave a Reply