Blog Literature Urdu

یہ زخم گواہ ہیں

یہ زخم گواہ ہیں

اسے کہنا

میرے دل کے ہر گوشے میں رہتے ہو

زمانے سے چھپا کے اب بھی

اسکو پوجتے ہیں ہم

ابھی بھی ہر سمت آواز اس کی گونجتی ہے

کہ سب کچھ سن کے بھی خاموش رہنے کی

وہی عادت نہیں جاتی۔۔۔

اسے کہنا لفاظی ہم نہیں کرتے

یہ تو زخموں کی اک الجھی ہوئی سی ڈور ہے شاید

خطائیں اب بھلا بیٹھے

وفائیں اب نہیں کرتے

کہ اب تو خود سے بھی کہنے کو کچھ بچتا نہیں صاحب

اسے کہنا

میرے سپنوں کو توڑا ہے

میرے لفظوں کو چھینا ہے

میرے خوابوں کو اب مجھ سے

عداوت ہو چکی صاحب

خطا تیری ہے نہ میری

کہ ہم دونوں ہی یکساں ہیں

محبت ہم کو تم سے تھی

محبت اس سے تھی تمکو

کہ ہم دونوں ہی اک ہی زہر کے ڈسے ہوے سے تھے

پلٹ کے تم نے دیکھا پر

میں موڑ کے دیکھتا کیسے

کہ خود کو ہار کے تم کو

مجھے آخر جتوانا تھا

اسے کہنا

کہ اس کو چھوڑ کے میں نے

اپنی سانسیں، اپنا دل، لفظ سارے دے دیئے اسکو

اسے کہنا

میں جب مل کر اسے پلٹا

تو میری ذات کے ہر کرچی پر تصویر اسکی تھی

اسے کہنا

اس کے آنسو تو مجھ پر تیر جیسے تھے

میرے سینے کا اک گوشہ بھی خالی تم نہ دیکھ پاتے

اسے کہنا! بہت کمزور تھا میں

خود کو میں ایسا سمجھتا تھا

تمہیں چھوڑا تو یہ معلوم ہوا کہ میں تو دیوتا ہوں

میری دنیا تو تم سے تھی

نہ تم ہو نہ میری دنیا

کہ اپنے ہاتھوں سے گھونٹا

گلہ ہی زندگانی کا۔۔۔

اسے کہنا

میں اس کو بھول جاؤں تو

میں اپنا ہی حوالہ گم کروں کیونکر

اسے کہنا! میں اس سے پھر کبھی ملنا نہ چاہونگا

مجھے ماضی میں پھر رہنا نہیں جاناں

اسے کہنا! دعا کرنا کہ معشرِ میں نہ مل پاؤں

قیامت خیز حالت سے پھر گزرنا نہیں اچھا

اسے کہنا! انا گر بوجھ بن جائے

نگاہ گر روگ بن جائے

تو پھر کوئی نہ کہہ پائے

محبت تم سے کرتے ہیں۔۔۔

انا میری اٹل ہے اصل میرے دیوتا جیسے

نہ جھکنا تم کو آتا ہے نہ تم کو دیکھ پاتا میں

اسے کہنا

سنا ہے حال میرا پوچھتے ہیں وہ

چلو غیروں سے پوچھیں یہ بھی ہے احسان ماضی کا

بھلایا جا چکا ماضی، مجھے ماضی سے نفرت ہے

فقط ایک ہی گلہ مجھ کو یہ میری زندگی سے ہے

جدا ہوتے سمے یہ سانس کیوں چلتی رہی آخر

پر جینا ہے چلو اس کے فقط اس نام کی خاطر

جو میں نے اس کو بخشا تھا

اسے کہنا! مسافر اجنبی صحرا کی جانب کوچ کرتا ہے

کہ شہر خاموشاں میں اسکا دل لگتا نہیں صاحب

اسے کہنا! مجھ سے یہ زخم کہتے ہیں

کہ اس کو بھولنا ہی ہے تو ہم کو اور گہرا کر

میں ایسا کر نہیں سکتا

اسے کہنا! میرے یہ زخم گواہ ہیں

تم بھلائے نہ جاؤگے

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started