Blog Literature Urdu

مجھ سے یہ کہہ رہا تھا زمانہ عجیب ہے

مجھ سے یہ کہہ رہا تھا، زمانہ عجیب ہے

پاگل ہے تو، یہ عشق کا قرینہ عجیب ہے

گلیاں بھی آپکی ہیں، یہ محفل بھی اپکا

میں مر کے جی رہا ہوں، تماشا عجیب ہے

تم کو تو گوارہ ہی نہیں ہم سے گفتگو

یہ میری جستجو ہے کہ پینا عجیب ہے

مرنا بھی ہو مجھے تو تیرے سامنے مروں

عریاں ہوں سراپا میں، یہ جینا عجیب ہے

میکش رہا ہوں آپکی نظروں کا جانِ من

پاگل ہوں پر یہ درد کا سفینہ عجیب ہے

کتنے پری صورت ہیں مگر تجھ کو دیکھ کے

خود سے یہ کہہ رہا ہوں، یہ کتنا عجیب ہے

اک بار تو کہدو کہ معطر بھی ہے میرا

باغی ہے پر یہ درد کا پروانہ عجیب ہے

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply