Blog Literature Urdu

زندگی مجھ کو دل سے لڑنے دے

زندگی مجھ کو دل سے لڑنے دے

جیسا تیسا ہو وقت گزرنے دے

پینے کے بعد توبہ کرلونگا

بس ذرا سا مجھے سنبھلنے دے

میں طوفانوں سے خوف کھا لونگا

پہلے ان سے مجھے ٹکرنے دے

آئیں گے وہ ضرور میت پہ

پہلے انہیں ذرا سنورنے دے

پھر جو پوچھو، بتا ہی دونگا میں

پہلے سر دار پہ تو دھرنے دے

ساقی! یوں بے رخی نہیں اچھی

بس ایک دو جام اور بھرنے دے

مفتی کیوں بے سبب الجھتے ہو

پہلے کچھ کفر مجھے کرنے دے

غزل آئی ہے میری جنگل سے

اسے کچھ دن یہانپر چرنے دے

تو بے خطا اب نہیں ہو سکتا

مجھ سے کہتا ہے جو کہ مرنے دے

جھک گئیں آنکھیں اسطرح اُنکی

زلف نے کی التجا، بھکرنے دے

آنسو یہ بے سبب رواں ہیں دوست

اِنہیں کچھ روز اور گرنے دے

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started