Blog Literature Urdu

زندگی ابرِ رواں جیسی تھی کبھی

زندگی ابرِ رواں جیسی تھی کبھی

تم کہ مانوس ہو الفاظ کے ہر رشتے سے

تم کہ دنیا میں محبت کے خریدار ہوئے

تم کہ الفاظ کے جگنو سے روشنی لے کر

اپنی بےتاب نگاہوں کی تازگی لے کر

آج پھر ہار گئے اپنی ہر خوشی لے کر

زندگی پھول ہی جیسی تھی اگر ہم ہوتے۔۔۔

زندگی پھر سے بھکاری ہے اسے کیا دوں میں

اپنی ہر خوشی دے کر بھی خالی ہاتھ رہا

زندگی کے سبھی الجھنوں سے کہو

کہ میں خاموش ہوں

مجھے رہنے دو پھر خاموشی سے میری زندگی

ذرا سوچو تو کیا کچھ ہے کھویا ہوا

جاگ کے بھی ہے بخت میرا سویا ہوا

زندگی کے سبھی معاملے حل ہوئے

ہم ہزاروں میں پھر اکیلے ہو گئے

پھر وہی جامِ جم ہی کی تکرار ہے

پھر وہی ذات اپنی ہی بیزار ہے

زندگی کے نشیب و فراز دیکھ کے

اپنی ساری کہانی کے راز دیکھ کے

پھر ہوں خاموش میں، جانے کیا چاہیئے

شاید پھر بیخودی کی سزا چاہیئے

بے نوا ان صداؤں میں کیا ہے رکھا

ان کو پھر کوئی درد اشنا چاہیئے

زندگی پھر وہی زندگی ہی رہی

عاشقی وہ رہی نہ رہی کیا ہوا

مجھکو خود سے ملانے کا ہو شکریہ

کھویا تھا کب سے میں

پھر میں خود سے ملا

یاد آیا مجھے جانے کیوں بچپن

زندگی جبکہ ابرِ رواں سی ہی تھی

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started