Literature,  Urdu

زندگی بھر کی بات

تم سے کہنی تھی ہر ایک بات مجھے

روٹھ کے مان بھی جایا تو کرو

خواب، تعبیر کو ترستے ہیں

درد احساس مجھکو ڈستے ہیں

زرد پتوں کی یہ تقدیر نہیں

بہار قابلِ تعزیر نہیں

شکار ہونا ہی گر قسمت ہے

کہدو قسمت بھی ناگزیر نہیں

مان لوں کیسے اس جہاں کا فریب

لفظ مقتل میں تڑپتے ہی رہے

فاتح مفتوح سے الجھتا رہا

درد، احساس سے سلگتا رہا

شام دہلیز پہ آکے پلٹا

رات زلفوں کو بکھرائے آئی

نیند بھی روٹھ چلی تیری طرح

روشنی گل ہوئی چراغوں کی

دل ہی آہوں میں جلایا اکثر

اپنے آنسوؤں نے سلایا اکثر

روز اٹھتا ہوں ڈھونڈنے تم کو

دل میں رہتے ہو دور ہو کیونکر

میرے دل کے سرور ہو کیونکر

وصل ممکن ہے ہجر ممکن ہے

تم روح کے یہ عذاب کیا جانو

خواہشوں کے سراب کیا جانو

خود پر پڑے نقاب کیا جانو

تار ٹوٹے رباب کیا جانو

تم میرے اضطراب کیاجانو

تم ہی انجان بنے پھرتے ہو

زندگی بھر کی بات کیا کرتے

 

Leave a Reply