Blog Literature Urdu

زندگی کا سفر

زندگی کا سفر

زندگی حسن کی بے تاب نگاہوں کے لیئے

اَن کہی بات کو سمجھائے تو میں یاد کروں

اس کے الطاف جو اس دل میں بسے رہتے ہیں

اس کے الفاظ جو جُگنو سے چمکتے ہیں سدا

میری بے نور نگاہوں کو روشنی دے کر

چھین لی مجھ سے میرے درد کی انمول متاع۔۔۔

کیا پتہ میں بھی تماشائی ہوں اپنا ورنہ

اسقدر مجھ سے میرے شکوے نہ ہوتے اکثر

خود سے روٹھا ہوں مگر پھر بھی اکثر

یاد آتا ہے مجھے خودسر و باغی، اجنبی

چھپتا پھرتا تھا جو خود سے وہ شرابی ساحر

وہ جو الفاظ کا انمول سوداگر تھا کبھی

آج خاموش ہے الفاظ بھی چپ چپ سے ہیں

کھو گیا ہے جو میرے دل سے وہ دلکش منظر

اسے ڈھونڈوں میں کہاں؟

کیسے کوئی سراغ ملے

اپنی بےتاب تمناؤں کو احساس دوں کیا؟

وقت! اے وقت! مجھے بہنے دے بہنے دے مجھے

اپنی ذات کے اس قید سے رہائی ملے

تم کو چاھونگا فقط تیرا ہی رہنا ہے مجھے

مجھکو معلوم نہیں چاہیے کیا چیز مجھے

ان ناتمام سوالات سے تنگ آکر میں

سوچتا ہوں کہ مسئلہ ہے کیا میرا

تھک کے بس ہار کے میں خود سے یہی کہتا ہوں

ان ناتمام سوالات میں الجھ کر میں

ان سوالات سا سوال نہ بن جاؤں کہیں

تبھی خاموش ہوں

خاموشی سے دل بہلتا ہے

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply