قطرہ قطرہ اشک
October 18, 2026
قطرہ قطرہ اشک
اس سوختہ دل کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں دوست
بس کچھ مہلت اگر آوارگی سے مجھ کو ملے
میں اپنے دیس کے سب بلبلوں کو یاد رکھتا ہوں
میں شاخِ گُل ہوں پھولوں کو یاد رکھتا ہوں
جاگتی آنکھوں میں نیندوں کے خمار اچھے ہیں
پیار کے دھاگے جو اپنے ہیں بہت کچے ہیں
یہ معطؔر کہے بھی کیسے تمہیں سب کے بیچ
آپ جھوٹے ہیں اور ہم بیچارے سچے ہیں
آخر چلے وہ آئے ہماری گلی کے سنگ
جیسے ہوا چلی ہو کسی بند گلی کے سنگ
آہ! امتحانِ شوق کا پرچہ سہل نہیں
خود ہی محفل کا ساقی بھی، میخوار بھی
میں طلبگار بھی ہوں اور بیزار بھی