تنہائی
October 14, 2026
تنہائی
یکطرفہ محبت کا
پہلے سے ہی ڈسا ہوں
اے دوستی کی ناگن
اِس بار نا ڈسو تم
کچھ لوگ مِل رہے ہیں
اَنجان صورتوں میں
جزبوں سے کھیلتے ہیں
بےجان صورتوں میں
میں سادگی کا پیکر
دھوکے ہی کھا رہا ہوں
اَنجان بن کر کب سے
تنہا ہی جی رہا ہوں
جب غم ستائیں مجھ کو
تبھی تو پی رہا ہوں
یہ کیا میری خطا ہے
مجھکو بھی کیا پتا ہے
رُوزن سے دیکھتا ہوں
جب فاصلے چمن کے
تب خود سے کہ رہا ہوں
یہ وقت ہے یا شاید
موجوں میں بہہ رہا ہوں
تنہائیوں میں یارو
بس یونہی رہ رہا ہوں
اِتنا ہی کہہ رہا ہوں