جامِ دلنشیں
October 14, 2026
جامِ دلنشیں
زندگی کے لیے، موت سے بھی پرے
اک حسیں جام ہے، دلنشیں نام ہے
زہرکا، شہر کا، بے خطر پہر کا
خاموشی سے تو پی
دلگی ہے نشہ، بس بچا اے خُدا
زندگی کےلیے روشنی چاہیے
اندھیری ہے زمیں، کالا ہے آسماں
اپنے دل میں ابھی
روشنی ڈھونڈلے، زندگی ڈھونڈلے
شمعِ زندگی، گُل ہوئی بھی اگر
دے دے اُسکو سحر، بے خطا، بے خطر
رات کو دے دے تو
پیار کی روشنی
زندگی ہے یہی
تارِ رباب ہے
کُھلا اِک باب ہے
دیکھو جا کے کبھی
روشنی۔کی کِرن
دل سے ہے آرہی
دل میں ہے جارہی