Aromanish
0

انتہائے درد

October 18, 2026

انتہائے درد

!یہ بھی تو انتہائے محبت ہے جانِ من

میں تجھکو چھوڑتا ہوں بہت منزلوں کے بعد

 

اشکِ یار

آنسوؤں کے دئیے

آنکھوں میں تیرے

اچھے لگتے ہیں دوست

تیری آنکھوں میں یہ

کتنے ججتے ہیں دوست

بہت سجتے ہیں دوست

 

یونہی برباد محبت کا فسانہ ہے عجیب

دلِ خاموش سے اک بار ذرا بات کرو

دل جو ٹوٹے تو بخدا واں خرابہ ہے دل

جا کہ اک بار تو محفل میں اس کی رات کرو

 

مسکراہٹ

مسکراہٹ غائب ہے ہونٹوں سے کیوں

پوچھ لیا ان سے تو رونے لگے

خواب میں ہیں جئی رہے پر کیونکر

پوچھ لیا ان سے تو کھونے لگے

آہ! مسکراہٹ کسقدر تکلیف دہ

 

ظن و قیاس

دعا کرو کہ نگاہِ شاعر کو مار دوں میں

جو کھیل چاہا تھا، کھیلنا تھا

وہ کھیل اب پھر سے ہار دوں میں

 

شمع و پروانہ

شمع نہ چھیڑ ہوں میں پروانہ

تجھ میں آتش تو میرا سینہ ہے

آؤ! جلاو جس قدر چاہو

!کتنا پاگل ہوں میں اے جانِ من

ہو کہ پروانہ تجھ سے کہتا ہوں

تم میرے پاس اب چلی آؤ

آہ! یہ دل کتنا پاگل ہے نا۔۔۔

 

منافقت

محبت دل سے ہوتی ہے

یہ اظہارِ محبت بھی

ایک مدت سے ہے چالبازی

یقین میرا نہیں اس پر

محبت ہے حسیں دھوکہ

یہ دھوکہ کھا چکا ہوں میں

فقط آزار دیتی ہے

دلِ داغدار دیتی ہے

مجھے نفرت ہے اِن سب سے

مجھے نفرت ہے تم سب سے

 

غمِ حیات

بارشوں نے بگھاڑ دی صورت

ورنہ خزاں سے دل لگایا تھا

اور بہار نے آکر میرا

کھیل سارا بگھاڑ دیا ہے

میں نے بھی غم کو گھول کے پیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.