اپنے اور تیرے بارے میں
October 18, 2026
اپنے اور تیرے بارے میں
شہرتوں سے بھی ڈر رہا ہوں میں
خواب بھی اس کے دیکھتا ہوں میں
رشکِ فرہاد، قیس کا دل ہوں
روز لیلٰی سے مل رہا ہوں میں
یہ بھی شاید کوئی فسانہ ہو
خواب بے وجہ بُنتا ہوں میں
اک غمِ عاشقی ناکافی ہے
کن سرابوں میں کھو گیا ہوں میں
اک شبِ وصل کی تمنا ہے
اک شبِ ہجر میں جیا ہوں میں
اتنا خالی میرا قفس ہے کیوں
دلِ خالی سے پوچھتا ہوں میں
تم میری زندگی کا حاصل ہو
گر یہ کہوں تو پھر جھوٹا ہوں میں
ان فسانوں سے مجھے کیا لینا
جان دے کر بھی تو زندہ ہوں میں
اک معطر ہی نہیں جس سے لڑوں
سارے جہان سے لڑتا ہوں میں