Aromanish
0

جو قریب تھے اپنی جان سے

October 18, 2026

جو قریب تھے اپنی جان سے

وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے

جنہیں تھا خیال اپنی زلف کا

وہی لوگ آج بکھر گئے

ہم تو تھے سراپا جمالِ سوز

تھے وہ لوگ بھی کچھ کمالِ سوز

تھے وہ لوگ بھی کچھ آہ بے وفا

دو قدم ہی جا کے ٹھہر گئے

آہ! وہ رقص کر کے کہاں گئے

ہمیں چھوڑ کے وہ جہاں گئے

سدا رہتے تھے اشکبار وہ

خوں پی کے ہمارا، سنور گئے

آئے قبر پہ تھے وہ خاص لوگ

ہمیں دیکھ کے کچھ وہ رو دیئے

کہتے جو تھے ہم سب کو بے وفا

وہ خود خاک میں اب اُتر گئے

تھی وہ شام کتنی عذاب میں

وہ بدنام تھے اضطراب میں

جنہیں ہم نے سمجھا تھا نا خدا

وہ ہمیں چھوڑ کے کدھر گئے

تھے وہ باغیوں میں جو خاص لوگ

وہ جو بلبلوں سے خفا ہوئے

وہ تھے لوگ کتنے آہ! دلنشیں

وہ گئے تو سب معطر گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.