حُسنِ مجبور بکا آج بھی بازار کے بیچ
October 18, 2026
حُسنِ مجبور بکا آج بھی بازار کے بیچ
لوگ بولی جو لگاتے رہے اغیار کے بیچ
آہ! وہ شاخِ بوسیدہ میرے دل ٹوٹ گیا
تھا جس پہ سبکو اعتبار سبھی اشجار کے بیچ
کون جلتا ہے، جلاتا ہے بے سبب واعظ
تم بھی دیکھو مجھے پھر تیغ و تلوار کے بیچ
دل کے بازار میں پھل پھول سبھی بِکتے ہیں
تم نے دیکھا ہے کبھی دل میرا اثمار کے بیچ
میں معطر کو کروں معاف یا کروں نہ کروں
وہ جو الجھا ہے ابھی مُلا اور میخوار کے بیچ