خدا سے
October 18, 2026
خدا سے
قفس کے بند دریچوں نے بتایا مجھکو
ساحلوں پر غمِ مفلس نے جلایا مجھکو
میں چھپ گیا تھا سکندر کے تازیانے سے
اتنا ڈرپوک بنایا تھا خدایا مجھکو
رہزنِ دین و وطن کو نہ روک پایا میں
اتنا کمزور بنایا، کیوں بنایا مجھکو
شورشِ باغی بھی خاموش تماشائی ہو
دشت اس شہر بے حسی سے ہے پیارا مجھکو
جب کبھی تنگ ہوا آتشِ زنداں سے میں
اپنے زنجیروں نے سینے سے لگایا مجھکو
کیسی آتش ہے معطر کے جگرِ گھائل میں
جس کے مرہمِ ظالم نے جلایا مجھکو