شامِ غم یوں بسر نہیں ہوتی
October 18, 2026
شامِ غم یوں بسر نہیں ہوتی
غمکدے میں سحر نہیں ہوتی
تنہا بلبل ہی تو چہکتا ہے
کچھ چمن پہ نظر نہیں ہوتی
وادی ذات میں بھٹکا ہوں میں
مجھکو اب کچھ خبر نہیں ہوتی
ہوں کھڑا میں تو آبشاروں میں
آرزو دربدر نہیں ہوتی
اب تماشوں سے مجھے کیا لینا
شاعری عمر بھر نہیں ہوتی