مجھ سے روٹھے ہیں سب پتھر کے خدا
October 18, 2026
مجھ سے روٹھے ہیں سب پتھر کے خدا
کیسے جیتے ہیں اب آذر کے خدا
ایک کو خوش رکھوں تو پھر اور خفا
کیسے راضی ہونگے اِدھر کے خدا
میرا خوں پی کے پجاری ہوئے سیر
کیسے خوش رکھوں میں مندر کے خدا
پہلے روٹھتے تو منا لیتا اُنہیں
آج منتے نہیں یہ گھر کے خدا
کسی کا پیٹ تو کسی کی پیٹھ خالی ہے
پیٹ بھرے ہیں اہلِ نظر کے خدا
میں ہوں اس بستی کا عاجز بندہ
کیسے سمجھاؤں میں شہر کے خدا
تمہی سمجھاؤ سب بتوں کو خدا
اِن غلاموں کے شہر میں معطر کے خدا