Aromanish
0

مجھے شعور کے جب جام سے آشنائی ملی

October 18, 2026

مجھے شعور کے جب جام سے آشنائی ملی

تو اِس چمن کی ہر ایک راہ پہ رسوائی ملی

میں اپنے ساتھ لیے پھرتا ہوں غمدیدہ من

بدلے میں جُرمِ محبت مجھے صحرائی ملی

مجھے نفرت ہے غلاموں کے جامِ جم سے ابھی

آرزو مجھکو تھی لذت کی تو دریائی ملی

کب تھلک شورشِ صحرا لیے پھرتا میں آہ

مجھے سفر کے لیے سازشِ سودائی ملی

اپنے آشیانے کے تنکوں کو بچایا جب کبھی

میرے اپنوں کو کہیں سے دیا سلائی ملی

عجب تھے لوگ جو مجھ سے ملے ستاروں پر

بہت تھے خوش وہ کہ باغی کی راہنمائی ملی

وہ اپنے دھن میں تھا مست، مجھ سے معطر نے کہا

میں دار چڑھ جب گیا اب مجھے خدائی ملی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.