میری یادوں کے آس پاس رہے
October 18, 2026
میری یادوں کے آس پاس رہے
میرے وعدوں سے وہ اُداس رہے
اُنکے غمدیدہ سے نگاہوں میں
نم تھے، سوال تھے، احساس رہے
آخرش پہنچ بھی جائے گا سحر
خواب بے وجہ ہی اُداس رہے
ابرِ آنسو ہیں سوگوار سے آج
میرے حرفِ ندا اداس رہے
نغمۂِ شب نہ چھیڑو اے بلبل
ٹوٹ جاتا ہے کچھ تو آس رہے
جان دینا وہ بھی صحراؤں میں
بے خطا ہو کے بے اساس رہے
تم معطر کو یہ سمجھاؤ نا
کبھی کبھار تو میرے پاس رہے