Aromanish
0

وجودِ من

October 18, 2026

وجودِ من

پیار نے زخم دیئے، روح کو آزار کیا

میرے نغموں نے زمانے کو بھی بیدار کیا

بے طلب میں نے زمانے کو دیا گرمئ دل!

جس نے سب کو میری تحریر کا کردار کیا

میں رہا محفلِ دل میں، مثلِ پروانہ

پھر میرے آتشِ دل نے سبکو خودار کیا

میرے لیے تو تھا چمن بھی اک قفس کی طرح

میں نے قفس میں ہی سبکو تھا خبردار کیا

دیا جوان کے دل کو شرر کا ایک ٹکڑا

پھر اسے ظلم کے خرمن کے لیے نار کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.