Aromanish
0

وہ نغمۂِ دگرگوں سراب جیسا ہے

October 18, 2026

وہ نغمۂِ دگرگوں سراب جیسا ہے

جو دل میں لائے نہ شورش، تیزاب جیسا ہے

وہ مست مست نگاہ اور وہ خموشیِ لب

کچھ کچھ ہلے تو بخدا شراب جیسا ہے

وہ بار بار جھپکنا، لپکنا عاشق پر

ذرا تو سوچو، میرا دل کباب جیسا ہے

اعتبار کرکے اُترنا تھا دل کے ساحل پر

مٹا جو اعتبار، قطرہ دریاب جیسا ہے

یہ لب صدیوں سے ہیں پیاسے سیراب کردو تم

لبوں سے لب جو ٹکرائیں، گلاب جیسا ہے

آج بھی دل یہ تڑپتا ہے تجھے پھر دیکھوں

پاس آؤ تو بخدا عذاب جیسا ہے

ایک معطر تیرا طالب ہے، چلے آؤ تم

نغمۂِ شب تو سُناؤں، رباب جیسا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.