یارب یہ کیسا مقدر ملا مجھے
October 18, 2026
یارب یہ کیسا مقدر ملا مجھے
پھولوں کو بو رہا تھا تو پتھر ملا مجھے
اپنے چمن کی ساری رسوائی بھی سہہ گیا
گرچے یہاں بھی کانٹوں کا بستر ملا مجھے
میں نے کتنی چاہی تھی محبت زمین پر
پہنچا جہاں بھی ٹوٹا سا ممبر ملا مجھے
نادان کتنا میں تھا کہ سب کو اپنا سمجھا
بدلے میں اپنے دوستوں سے خنجر ملا مجھے
دو گھونٹ پینے کے لیے جنت بھی چھوڑ دی
پر اس کے بعد اشک کا سمندر ملا مجھے
دنیا کے سارے کھیل تماشے فضول تھے
ہوس کے ڈھیر میں ہر سکندر ملا مجھے
اپنے جنون خیز محبت کے عوض دل اک پھول ہی سہی پر معطر ملا مجھے