یہ محبتیں تو فریب ہیں
October 18, 2026
یہ محبتیں تو فریب ہیں
کسی کو بھی تو کچھ ہوا نہیں
ساری گفتگو ہی عبث رہی
کسی کو بھی تو کچھ ہوا نہیں
حسن کا نظارہ فضول تھا
اس نے کسی کو کچھ دیا نہیں
گلا پھاڑ کے کہا تھا اسے
بےخطا سزا، کچھ کہا نہیں
کل وہ شہر بھر سے ملے مگر
میری بات کو کچھ سنا نہیں
مجھے پیار کی تھی وبا لگی
وہ طبیب تھے کچھ لکھا نہیں
اک وفا ہی تو میرے پاس تھی
تھا ہوا نشہ کچھ بچا نہیں