تقضائے دل
October 14, 2026
تقضائے دل
دل کو کیا چاہیئے؟
خوابیدہ زندگی
بے خبر روشنی
بے اثر شاعری
اور کچھ بھی نہیں
بس کچھ بھی نہیں
اور کیا چاہئیے
کوئی زخمی غزل
کوئی وحشی وصل
کوئی نغمۂِ دل
کچھ نہیں، بس یہی
جامِ جم چاہئیے
آنکھ نم چاہیئے
اک قسم چاہیئے
زلف و رخسار کا
دلِ سنگسار کا
اور کیا، اور کیا اور کیا چاہئیے
میرے دل کُچھ بتا
سنگدل کچھ بتا
کیا صِلہ مِل سکا کسی منصؔور کو
جا کے پوچھو کبھی تختہ و دار سے
ابرِ رُخسار سے
کیا عجب روشنی بھی بھکاری بنے
مجھ سے مانگے میری زندگی کی متاع
جانتا ہے یہ تُو؟
کتنا بدنام ہوں سارے سنسار میں
اَبِ گُلنار میں
کچھ مِلا بھی اگر آہِ منصؔور کو
بے خطا طور کو
بس یہی روشنی کہ بھکاری بنی
بس یہی جامِ جم کی سواری بنی