میں اور آوارگی
October 14, 2026
میں اور آوارگی
شہر کی اِن فضاؤں میں پھرتے رہے
میں اور آوارگی
کوئی اپنا نہ تھا، کوئی سپنا نہ تھا
یونہی چلتے رہے
میں اور آوارگی
دھن تھی بس یہ لگی
کوئی آندھی چلے
یا پھر طوفان میں
یونہی پلتے رہیں
میں اور آوارگی
اَن کہی جب یونہی اَن سنی ہو گئی
کیا رہا پھر مزہ، بیخودی جب گئی
میں اور تم ہیں جُدا
میں اور آوارگی