تیرا یوں الودع کہنا
October 14, 2026
تیرا یوں الودع کہنا
بہت اچھا لگا مجھ کو
تیرا یوں الودع کہنا
مگر کچھ پیار سے کہتے
مجھے بھی یار تو کہتے
پرایا تو نہیں تھا میں
تمہارے ساتھ بیتاے تھے
کیئ لمحے تنہائ کے
بہت اچھا لگا مجھ کو۔۔۔
مگر اے جانِ من! سوچو
یہاں طوفان آئیں جو
یا آندھیوں کے طوفانوں میں
میں کس کے پاس جاونگا؟
کسے میں درد سُناوُنگا؟
کس کی خاطر میں نغمے گُنگُناوُنگا؟
ذرا تو یہ بھی کہہ دیتے
بہت اچھا لگا مجھ کو
تمہارا روٹھ سا جانا
ذرا سی ٹھیس سے بھی
شیشہِ دل ٹوٹ سا جانا
تمہیں کچھ بھی نہیں لگتا؟
کیا میں اک دل نہیں رکھتا؟
کیا میں خواہش نہیں رکھتا؟
کیا بستی میں، میں تجھ سا کوئی بھی مہوش نہیں رکھتا؟
کیا میں شرر نہیں، خود میں کوئی آتش نہیں رکھتا؟
کیا تٌو اب دل میں مجھ سے کوئی بھی خلش نہیں رکھتا؟
یہی تو پوچھنا تھا کہ
تم نے تو الودع کہہ کے
مجھے خاموش کر دیا
ادائےِ بِے رُخی سے جانِ من
بیہوش کر دیا
اور جب میں ہوش میں آیا
تو تُو تو جا چکا تھا دوست
بہت اچھا لگا مجھ کو
تیرا یوں الودع کہنا۔۔