Aromanish
0

اسے کہنا جلا دے میرے سب نامے

October 18, 2026

اسے کہنا جلا دے میرے سب نامے

مٹا دے ہر نشانی پر

میرے لہجے کو

اپنے دل کے ہر گوشے میں وہ رکھے

مسافر ہوں

ہر اک منزل سے مجھ کو لوٹ جانا ہے

ٹھکانہ میں نہیں رکھتا

ہے شہرِ خاموشاں تو کیا

اسے کہنا

اجازت ہے اسے

شیشے ہی توڑے وہ

دریچے بند کر دے

راستے مقفل کرے لیکن

دلِ انمول کا حصہ وہ میرے نام رہنے دے

میرے حصے کی کچھ رسوائیاں ادھار رکھدے وہ

نقابوں میں چھپے چہرے

کبھی اشکار ہو جائیں

تو ہم بیزار ہو جائیں

حقیقت سن نہ پایا میں

فسانہ تو فریبی ہے

اسے کہنا

وہ دل کے پاس ہے میرے

جدا اب ہو نہیں سکتے

میرا ماضی میری مرضی

سبھی اختیار میں میرے

بکھرنا بھول بیٹھے ہیں

بچھڑنا یاد ہے انکو

سراپا حسن ہے شاید

کہ یہ اوہام ہیں سارے

سنا ہے نیند میں آنے کی ضد

وہ اب بھی کرتے ہیں

سنا ہے خط میرے پڑھ کے

انہیں تکلیف ہوتی ہے

ابھی بھی زخم ہیں تازہ

انہیں بھرنے نہیں دیتے

کسی بھی اجنبی کو

دل میں اب رہنے نہیں دیتے

اذیت انکو ہو اور درد کیوں سینے میں ہوتا ہے

اسے کہنا جلا دے میرے سب نامے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.