Aromanish
0

اے دل کیا تو نے اب بھی ستمگر نہیں دیکھا

October 18, 2026

اے دل! کیا تو نے اب بھی ستمگر نہیں دیکھا

میں جسکو چاہتا ہوں اس کا گھر نہیں دیکھا

وہ بے رخی، وہ نازوادا میرے سامنے

سبکو تو اس ادا سے بہرور نہیں دیکھا

عاشق ہوں تیرا میں نہیں غلام جانِ من

تم نے کیا کبھی مجھ سا سخنور نہیں دیکھا

کیا جانوں میں کہ نوری ہوں یا خاکی دوستو

میں نے بھی حقیقت میں اپنا گھر نہیں دیکھا

اک زخمی کبوتر جو یہاں آتا تھا اکثر

تم نے کیا اس کا ٹوٹا ہوا پر نہیں دیکھا

کھویا ہے اک عرصے سے معطر، اے جان و دل

تم نے کیا میری جان! اسکا گھر نہیں دیکھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.