خوشبو
October 18, 2026
خوشبو
جس نے بےلوث محبت دی ہے
آج اُس حسن نے دعوت دی ہے
میں نے ہر بار جسکو جھٹلایا
اس نے آج ایسی صداقت دی ہے
جسے چاہ کے بھی میں جھٹلا نہ سکوں
ایسے ہونٹوں کی حرارت دی ہے
جامِ خلوص پی سکا نہ میں
ایسے ہی عشق نے جرات دی ہے
نغمۂِ پرسوز اگر ہے تو
کیا ہوا میں نے بھی قیمت دی ہے
اپنے خلوص کی اور چاہت کی
شامِ غم کو بھی تو قربت دی ہے
میں معطر ہوں سراپا ورنہ
اپنی خوشبو کو محبت دی ہے