دیوانگی
October 18, 2026
دیوانگی
کس قدر زندگی نے دیوانہ کیا
خود سے اور اِس جہاں سے بیگانہ کیا
کیا عجب زندگی لوٹ آئے کبھی
جس کے حسنِ طلب نے پروانہ کیا
کیوں الجھتے ہو الفاظ کے کھیل میں
ہم نے الفاظ کا کیوں نذرانہ کیا
نہ ہمیں کچھ خبر، نہ تمہیں کچھ پتا
یونہی ہم کو جہاں نے دیوانہ کیا
فطرتِ بمثل لے کے آئے تھے ہم
اِس جہاں نے اُسی سے بیگانہ کیا
!میں معطر نہیں ہوں وگرنہ اے جاں
مجھے اپنے ہی دل نے دیوانہ کیا
کراچی، ۵ جون ۲۰۱۱