Aromanish
0

روشنی کے سفیر

October 18, 2026

روشنی کے سفیر

انہیں بتاؤ کہ روشنی کے سفیر ہیں ہم

ابھی اسیرِ ضمیر ہیں ہم

تم اپنے ظلم کے سارے حربے آزما چکے ہو

مگر یہ سن لو

صدائے باغی پھر گونج اُٹھے گی

پیام دے گی، قیام دے گی

اِن کی خموشی کچھ تو کہی گی

لہو کیوں ارزاں ہے اِنکا اتنا

انسانیت سے سوال ہے یہ

یہ بے حسی کا تاوان لے گی

ابھی زبانیں تم کاٹتے ہو

لب ہائے باغی کو سی رہے ہو

لیکن یہ سوچو

عدل کا دن بھی تو مقرر ہے

انتقامِ عدل بھی تو اٹل ہے

قسم ہے قادر و مقتدر کی

یہ بھول جاؤ

کہ سر ہمارے کبھی جھکیں گے

ہے یہ کیا دہشت، نہیں قسم سے

ہم اپنا انتقام لے رہے ہیں

اور جب تم اپنے بچوں کی لاشوں پہ

یوں ہماری طرح آؤگے

تب یہ کہیں گے

ذرا بتاو کہ درد کیا ہے

کسی کے بچوں کو مار دینا

نہ سر جھکائے جو، دار دینا

وجودِ زن کو آزار دینا۔۔۔

ذرا بتاو کہ سر جھکاو

کہ روشنی کے سفیر ہیں ہم

کہ اب اسیرِ ضمیر ہیں ہم

انہیں بتاو ذرا تو اے دل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.