زندگی ابرِ رواں جیسی تھی کبھی
October 18, 2026
زندگی ابرِ رواں جیسی تھی کبھی
تم کہ مانوس ہو الفاظ کے ہر رشتے سے
تم کہ دنیا میں محبت کے خریدار ہوئے
تم کہ الفاظ کے جگنو سے روشنی لے کر
اپنی بےتاب نگاہوں کی تازگی لے کر
آج پھر ہار گئے اپنی ہر خوشی لے کر
زندگی پھول ہی جیسی تھی اگر ہم ہوتے۔۔۔
زندگی پھر سے بھکاری ہے اسے کیا دوں میں
اپنی ہر خوشی دے کر بھی خالی ہاتھ رہا
زندگی کے سبھی الجھنوں سے کہو
کہ میں خاموش ہوں
مجھے رہنے دو پھر خاموشی سے میری زندگی
ذرا سوچو تو کیا کچھ ہے کھویا ہوا
جاگ کے بھی ہے بخت میرا سویا ہوا
زندگی کے سبھی معاملے حل ہوئے
ہم ہزاروں میں پھر اکیلے ہو گئے
پھر وہی جامِ جم ہی کی تکرار ہے
پھر وہی ذات اپنی ہی بیزار ہے
زندگی کے نشیب و فراز دیکھ کے
اپنی ساری کہانی کے راز دیکھ کے
پھر ہوں خاموش میں، جانے کیا چاہیئے
شاید پھر بیخودی کی سزا چاہیئے
بے نوا ان صداؤں میں کیا ہے رکھا
ان کو پھر کوئی درد اشنا چاہیئے
زندگی پھر وہی زندگی ہی رہی
عاشقی وہ رہی نہ رہی کیا ہوا
مجھکو خود سے ملانے کا ہو شکریہ
کھویا تھا کب سے میں
پھر میں خود سے ملا
یاد آیا مجھے جانے کیوں بچپن
زندگی جبکہ ابرِ رواں سی ہی تھی