میں تو خواب دیکھتا ہوں
October 18, 2026
میں تو خواب دیکھتا ہوں
کیسے تم سے میں جدا ہوں
تو میرا ہے میں تیرا ہوں
میں تو خواب دیکھتا ہوں
اِس چمن سے میرا رشتہ
تیرے واسطے ہی تو ہے
تیرے واسطے جہاں سے
سارے واسطے عبث ہیں
کوئی اَن دیکھی ادا کیا
کوئی اَن سنی صدا کیا
میرے واسطے جہاں کیا
تیری راہ دیکھتا ہوں
میں تو خواب دیکھتا ہوں
کیا تعبیر میں الجھنا
کیا تاثیرِ الفت و غم
کیوں ہو آنکھ ہر دم پر نم
ہر قدم پہ ڈھونڈتا ہوں
میں تو خواب دیکھتا ہوں
اَن کہی رہی حکایت
مجھے تجھ سے کیا شکایت
کر کبھی کبھی عنایت
تجھے خود میں کھو چکا ہوں
میں تو خواب دیکھتا ہوں
اب تیری طلب نہ خود کی
اب صبر و شکر بے معنی
جانے خود سے کیا کہتا ہوں
میں تو خواب دیکھتا ہوں