چراغِ طور جلاؤ، بڑا اندھیرا ہے
October 18, 2026
چراغِ طور جلاؤ، بڑا اندھیرا ہے
’’چراغِ طور جلاؤ، بڑا اندھیرا ہے‘‘ (ساغر صدیقی)
تم مجھ سے دور مت جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
اندھیری شب ہے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ہوں
ذرا تو نور برساؤ، بڑا اندھیرا ہے
نہ روٹھو تم، خطا بھی میری ہے مگر جانم
میرا قصور مت جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
فغانِ . شب میں بڑا اثر ہوگا
دل کے سرور مت جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
پلٹ کے آؤگے، لیکن یہ عارضی سا ستم
ہے کیا ضرور، مت جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
عطاگری بھی تیری ہے، ستم گری بھی تیری
میرے حضور، مت جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
ذرا تو رک بھی جاؤ تم لاش دفنانے دو
سراپا نور، مت جاؤ، بڑا اندھیرا ہے