یار کی دہلیز تک آیا تھا میں
October 18, 2026
یار کی دہلیز تک آیا تھا میں
پر نہیں معلوم کیوں لوٹا تھا میں
دوقدم آگے نہ جانے کی سزا
دے رہا تھا خود کو یہ سوچھا تھا میں
ناز کے لائق تھا وہ اپنا صنم
یار کی دہلیز پہ رکا تھا میں
سوچتے رہنے کی عادت چھوڑ دی
جب سے اس راز پہ سمجھا تھا میں
پیار کی سبھی راہیں فریب تھیں
حیف! کتنا درد سے تڑپا تھا میں
ساحلوں پہ دھوپ میں کچھ ڈھونڈنے
مثلِ پاگل، آوارہ پھرتا تھا میں
کوئی سیپ موتی سمجھ کے ڈھونڈلی
خود کو جو اک جوہری سمجھا تھا میں
آہ! نادانی تھی میری آہ! دل
یہ جوانی میں کیوں نہ سمجھا تھا میں
پیار کا یہ کھیل ہے جادوگری
اس کے رازوں سے کبھی آگاہ تھا میں
آج اک خلش سی دل میں ہے مگر
پیار کی قسموں میں ہی جھوٹا تھا میں
پیار تو عریاں ہے اپنے راز سے
کسقدر غفلت ہے ناآشنا تھا میں
روز اپنی محبتوں کی قبر پہ
شمع، جلاتے ہوئے کھڑا تھا میں
آج اس بستی سے ہوں میں جا رہا
جس میں روز آتا تھا میں، جاتا تھا میں
بخش دی اپنے ہی دردوں کو سخن
گرچے وہ سمجھا تھا کہ جھوٹا ہوں میں
روز مجھ سے دل میرا کہتا ہے یہ
کس قدر ٹوٹا تھا اور بکھرا تھا میں
میں کسے ہمراز کرتا آہ! دل
اپنے ہاتھوں درد سے الجھا تھا میں