Aromanish
0

اب تو اسکا بھی نہیں اور میں اپنا بھی نہیں

October 18, 2026

اب تو اسکا بھی نہیں اور میں اپنا بھی نہیں

شامِ غم بیت چکا، رات کا مزہ بھی نہیں

یا تو اُلجھے ہو، اُلجھتے ہو، اُلجھتے ہو کیوں

ضبط آنسو ہیں میرے، رونے کو کچھ بچا ہی نہیں

اُس سے کہدو کہ میں اُسکا ہوں، اُسکا ہی ہوں میں

گر وہ میرا نہیں، میرا کبھی رہا بھی نہیں

اس قدر ٹوٹ کے چاہا کہ میں پاگل ٹھہرا

پھر جب میں ٹوٹ کے بِکھرا تو پھر سمٹا بھی نہیں

اس ویرانے میں بسانے کئی پیکر آئے

اِس خرابے میں مگر کوئی رُکا بھی نہیں

گر تیرا تھا میں نہیں، پھر کیوں اپنایا تھا مجھے

دلِ غمدیدہ کے سوا، اب کچھ رہا بھی نہیں

اے دلِ زار ہو خموش نہ رسوائی کر

اے معطر تجھے اب یارائے گریہ بھی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.