اسکی کاجل بھری نگاہوں نے
October 18, 2026
اسکی کاجل بھری نگاہوں نے
مجھکو مجھ سے چرا کے دیکھا ہے
ٹمٹمائے ہیں آنسوؤں کے دیئے
اس نے مجھکو جلا کے دیکھا ہے
نہیں بِکتا میں، مئے وساغر پہ
کتنی بار یہ پِلا کہ دیکھا ہے
گل کی یہ بے رخی نہیں اچھی
خار نے خود سنا کے دیکھا ہے
مجھے بہار سے امیدیں ہیں
گرچے اس نے بھلا کے دیکھا ہے
زندگی کس قدر ادھوری ہے
موت نے خود بھی آ کے دیکھا ہے
اس معطر نے شاعری میں ہی
خود سے خود کو چھپا کے دیکھا ہے