ایک ہی دن میں کیا عشق کا سودا میں نے
October 18, 2026
ایک ہی دن میں کیا عشق کا سودا میں نے
پائی اپنے ہی بغاوت کی یہ جزا میں نے
لوگ اپنے بھی لگے اور پرائے بھی لگے
دیکھی جب اپنی حقیقت کی یہ خطا میں نے
آج بھی ڈوبتی سانسوں نے شکایت کی تھی
کی اپنے پیار کے قیمت کی نہ پرواہ میں نے
چلو! ایک بات سنو، پھر سے بھول جاؤ مجھے
کیا تھا خود ہی تو اس پیار کا سودا میں نے
میں معطر سے ملا ہوں مگر اکثر
جب بھی دیکھا ہے اسے، محوئے تماشا میں نے