جو زندگی کے تمام رستوں میں جل رہی ہے
October 18, 2026
زندگی میری
میں اس سے پہلے بھی
تیری باہوں سے جا چکا ہوں
میں وادئِ موت سے آچکا ہوں
خبر نہ لمحے کی تھی نہ دل کی
کہ دل کن راہوں میں چھوڑ آئے
ہم کن کی باہوں کو توڑ آئے
یہ زندگی ہے کہ روشنی ہے
ہرپل، ہر سمت جو چھا رہی ہے
یہی کیا اپنی خُلدِ بریں ہے
یا پھر یہ شعلہِ آتشیں ہے
جو آگ ہے وہ، اس آگ میں ہوں، وہ آگ میں ہوں
جو زندگی کے تمام رستوں میں جل رہی ہے
جو زندگی ہے۔۔۔
نوائے راز