Aromanish
0

حُسن بیزار جس گلی میں ہے

October 18, 2026

حُسن بیزار جس گلی میں ہے
عشق پائمال اُس گلی میں ہے
اُس سے گلہ ہو کس وجہ سے شیخ
تو کیوں بدحال اُس گلی میں ہے
زاہدوں کو وہ سب مبارک ہو
اپنی تو شام اُس گلی میں ہے
زندگی اتنی بیقرار نہیں
ابھی تو جام اُس گلی میں ہے
کسے تعزیر کرے اور کسے سولی دے
کیا اپنا نام اُس گلی میں ہے
زلف بے وجہ پریشان ہے کیوں

دلِ بدنام اُس گلی میں ہے
سارے دغے، انا، ستم بھی وہی
یہ بھی الزام اُس گلی میں ہے
کتنے کمیاب ہیں یہ اہلِِ قفس

یعنی ناکام اُس گلی میں ہے
کیا معؔطر ہیں سب پیرانِ ہوس
کتنے گمنام اُس گلی میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.