خدا کا شکر ہے لوگوں نے ہمیں چھوڑ دیا
October 18, 2026
خدا کا شکر ہے لوگوں نے ہمیں چھوڑ دیا
نہیں تو ہم تو بڑے بے قرار رہتے تھے
جفا کی تیغ بھی تھی اور روشنی کے چراغ
ہم ان کے واسطے اے دل! بہت کچھ سہتے تھے
ہے شکر وہ بھی بے وفا بے وفا سے نکلے
وگرنہ ہم تو اُنہیں دوست اپنا کہتے تھے
ہم تو مجبور تھے، بے بسی کے ہاتھ
وہ ہمیں بے وفا جو کہتے تھے
روٹھتے تھے جب وہ سنگدل سارے
ہم انھیں جان بے وجہ کہتے تھے
تھا پرفریب تماشا یہ معطر کے دل
سبھی تھا جھوٹ جو ہم تجھ سے آکے کہتے تھے