خواب خیرات میں نہیں ملتے
October 18, 2026
خواب خیرات میں نہیں ملتے
گر تیری ذات میں نہیں ملتے
سارے دلکش نظارے تیرے لیے
اب کسی رات میں نہیں ملتے
درد بھی تھم گیا رفتہ رفتہ
یہ ملاقات میں نہیں ملتے
کتنی بھی میکشی رہی اپنی
غم بھی تو مات میں نہیں ملتے
پہلے مل جاتے روشنی میں بھی
اب ظلمات میں نہیں ملتے
میرے پروانے، میرے دیوانے
اب خُرابات میں نہیں ملتے
روک لو قسمتِ حزیں ورنہ
یہ التفات میں نہیں ملتے
میکشو پی رہے ہو جام سے تم
ساقی کے ہات میں نہیں ملتے
گرچے آغوشِ محبت ہے وا
ہم ان نغمات میں نہیں ملتے
پھر معطر ہے پھر وہی باتیں
وہ کسی بات میں نہیں ملتے