زندگی مجھ کو دل سے لڑنے دے
October 18, 2026
زندگی مجھ کو دل سے لڑنے دے
جیسا تیسا ہو وقت گزرنے دے
پینے کے بعد توبہ کرلونگا
بس ذرا سا مجھے سنبھلنے دے
میں طوفانوں سے خوف کھا لونگا
پہلے ان سے مجھے ٹکرنے دے
آئیں گے وہ ضرور میت پہ
پہلے انہیں ذرا سنورنے دے
پھر جو پوچھو، بتا ہی دونگا میں
پہلے سر دار پہ تو دھرنے دے
ساقی! یوں بے رخی نہیں اچھی
بس ایک دو جام اور بھرنے دے
مفتی کیوں بے سبب الجھتے ہو
پہلے کچھ کفر مجھے کرنے دے
غزل آئی ہے میری جنگل سے
اسے کچھ دن یہانپر چرنے دے
تو بے خطا اب نہیں ہو سکتا
مجھ سے کہتا ہے جو کہ مرنے دے
جھک گئیں آنکھیں اسطرح اُنکی
زلف نے کی التجا، بھکرنے دے
آنسو یہ بے سبب رواں ہیں دوست
اِنہیں کچھ روز اور گرنے دے