Aromanish
0

شب کو مانگی تھی دعا یاد نہیں

October 18, 2026

شب کو مانگی تھی دعا، یاد نہیں

مجھے اپنی ہی نوا یاد نہیں

راہ پہ کل جو فقیر گزرا تھا

دی تھی اس نے کیا صدا یاد نہیں

پاس آکر بھی منہ چھپاتے ہو

ہے یہ کیا تیری ادا، یاد نہیں

میں تیرے پاس تھا محفل میں جو

دی تھی تم نے کیا سزا یاد نہیں

تم تو دل میں تھے، پھر نجانے کیوں

مجھ سے ہوئے تھے جدا، یاد نہیں

کل شب پوچھا تھا تم نے مجھ سے کیا

تم بھی رکھتے ہو خدا، یاد نہیں

کیوں معطر کو مارتے ہو تم

کیا یہ ہے سچ کی سزا، یاد نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Be first to read and listen

New releases, audiobook drops and launch offers. No spam.