میخانہ
October 18, 2026
میخانہ
جانے کیوں پھر خفا ہے میخانہ
بتکدہ کیوں بنا ہے میخانہ
روح بند اپنی ذات میں جانم
ورنہ کتنا بڑا ہے میخانہ
ساحلوں پر بھی ڈبوتا ہوں میں
دل میرا کیوں نشہ ہے میخانہ
آہ! کتنی ہے دلنشیں دنیا
کتنی دلکش فضا ہے میخانہ
جاؤ، روکو! سبھی میخواروں کو
یونہی جانا، خطا ہے میخانہ
سازشوں سے بھری ہے اک دنیا
کتنی معصوم آہ! ہے میخانہ