میں تیری بات کا بھی اعتبار کرتا ہوں
October 18, 2026
میں تیری بات کا بھی اعتبار کرتا ہوں
میں تجھے کتنا چاہتا ہوں، پیار کرتا ہوں
تمام لمحے مسلسل ہجر کی سازش میں
میں پھر بھی تجھ سے بے وفا سے پیار کرتا ہوں
تیری جفا میری وفا سے ہار مانے گی
اگرچے پیار کچھ بے اختیار کرتا ہوں
مجھے دیا ہے تیرے وعدوں نے اکثر دھوکہ
پھر بھی اے دل! میں تجھے دل سے پیار کرتا ہوں
بیتے لمحے ہیں ناگنوں کی طرح
خواب تجھ پر نثار کرتا ہوں
مل ہی جائے گا کوئی درد آشنا
تبھی دردِ غبار کرتا ہوں
شام ہونے لگی ہے آگے ہے رات
یونہی شکوے ہزار کرتا ہوں