نوائے راز
October 18, 2026
دل کی بستی پہ راج تیرا ہے
مجھ میں سارا مزاج تیرا ہے
نوائے راز، دل جنوں آمیز
مجھ میں یہ امتزاج تیرا ہے
شامِ زندان
میرے الزام! میں کہاں جاؤں؟
’’دلِ ناکام میں کہاں جاؤں؟‘‘ جون ایلیا
لب و رخسار قصہِ ماضی
اُلفتِ جام! میں کہاں جاؤں؟
مجھ ناراض فقیہانِ شہر
شہرِ گمنام! میں کہاں جاؤں؟
جامِ جم، تختِ سُلیمان و ارم
تم سے کیا کام، میں کہاں جاؤں؟
ذات زندان کی صورت ہو تو
ایسی ہو شام، میں کہاں جاؤں؟