کب تک محبتوں کے صلیب پہ
October 18, 2026
کب تک محبتوں کے صلیب پہ
تم چِتا میری آہ! جلاؤ گے
آس ٹوٹتی جارہی ہے دل
کب تک اس کو تم آہ! بڑھاوگے
آنکھوں میری روشنی نہیں
کیا وہ دل سے میری چراؤگے
پھول تیرے کانٹے تو میرے ہیں
مجھے یہ بھی کیا تم بتاؤگے
میں ہوں خاک بسر دیوانہ
دشت سے کیا مجھکو بلاؤگے
آہیں اپنی مثلِ گوہراں
کیا یہ سینے میں ہی دباؤگے
ہوں جہنمِ بےکراں میں میں
کیا یہاں بھی تم ستم ڈھاؤگے
آتش و خوں کا بازار ہے
کیا تم اس میں مجھ کو جلاؤگے
خیر خواہ میرے کہتے ہیں سبھی
معطر کو کچھ تم سمجھاؤگے
مسکرا کے کہتا ہوں جانِ من
اسے کب میرے پاس لاؤگے