کب کہا تجھ سے کہ دولت دے دو
October 18, 2026
کب کہا تجھ سے کہ دولت دے دو
اپنے ہونٹوں کی حرارت دے دو
جیسا چاہو تم میں ڈھل جاؤنگا
مجھے گر تھوڑی سی مہلت دے دو
جس میں خلوص کی لذت بھی ہو
ایسی بیدار محبت دے دو
ہو جس سے دل میرا، ٹکڑے ٹکڑے
ایسے شیشے کو اک ضربت دے دو
میں نے تجھ سے نہیں چاہا ہے کچھ
بس چند لمحوں کی قربت دے دو
گر تجھ سے یہ بھی نہیں ہو سکتا
چلو پھر تھوڑی سی نفرت دے دو
غمِ حیات دور ہو کچھ دیر
مجھے ذرا سی تو فرصت دے دو
بھلادونگا تجھے قسم تیری
گر تم بے لوث محبت دے دو