کر کسی بے رحم آتش کے حوالے مجھکو
October 18, 2026
کر کسی بے رحم آتش کے حوالے مجھکو
دیا بنا کے، اپنے در پہ سجا لے مجھکو
میں ہوں صحرائی مجھے مت ڈھونڈ کہیں
اپنے من میں کھو کے پا لے مجھ کو
کب تک ڈھونڈو گے اندھیروں میں مجھے
درد، احساس، اُجالے، مجھ کو
دل کے خوشی کے لیے ہوں حاضر
شام ہوتے ہی جلا لے مجھکو
میں تنہائی میں تیرا مونس ہوں
پھر بُلا، رات سے پہلے مجھ کو
شبنم نے گل سے گل نے مجھ سے کہا
سحر سے پہلے جگا لے مجھ کو
ہاں راہِ زیست میں پڑا ہوں میں
کچھ تو رحم کر، اُٹھا لے مجھ کو